(معنی: رازوں کی نقاب کشائی) امام خمینی کی وہ پہلی اہم ترین تصنیف ہے جو 1943ء (1362ھ قمری) میں شائع ہوئی۔ اس کتاب نے ایران کی سیاسی اور دینی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے اس وقت کے پہلوی خاندان کی سیکولر پالیسیوں اور اس کے ایک نامور عالم (احمد کسروی) کے خلاف جوابی کارروائی کے طور پر لکھا گیا تھا۔
اگرچہ یہ کتاب تقریباً 80 سال پہلے لکھی گئی، لیکن اس کے پیغامات آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں:
یہ کتاب اسلام کے بنیادی اصولوں اور شیعہ تشریحات کا عقلی و نقلی دفاع کرتی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس کتاب کے کسی مخصوص باب یا موضوع (مثلاً تزکیہ نفوس، حضورِ قلب، یا اعمالِ قلبیہ) کا مفصل خلاصہ یا اردو ترجمہ طرزِ بیان کے ساتھ فراہم کر دوں۔ Kashf Ul Asrar Imam Khomeini In Urdu
اس کتاب نے ایرانی عوام کو شاہی حکومت کے خلاف بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
The immediate catalyst for the book was a controversial pamphlet titled Asrar-e Hezar Saleh (Secrets of a Thousand Years), written by Ali Akbar Hakamizadeh, a disciple of the radical secularist thinker Ahmad Kasravi. Hakamizadeh’s tract attacked traditional Shia practices, questioning: The necessity of the clerical establishment (Ulema). The concept of the Imamate and Intercession (Shafa'at). Mourning rituals for Imam Hussain (Azadari).
: Addresses criticisms regarding the authenticity and use of oral traditions. Key Themes : Mourning rituals for Imam Hussain (Azadari)
کشف الاسرار کے مرکزی موضوعات (Key Themes)
1930ء اور 1940ء کی دہائی میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت نے مغربی تہذیب اور سیکولرازم کو فروغ دینے کے لیے دین اسلام اور علمائے کرام کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ اس دوران علی اکبر حکمی زادہ نامی ایک شخص (جو پہلے قم کے مدرسے کا طالب علم تھا لیکن بعد میں منحرف ہو گیا) نے نامی ایک رسالہ شائع کیا۔
امام خمینی نے، جو اس وقت قم کے حوزہ علمیہ کے ایک ممتاز عالم تھے، اس چیلنج کو قبول کیا اور "کشف الاسرار" کے نام سے ایک تفصیلی جوابی کتاب تحریر کی۔ یہ نہ صرف ایک علمی کتاب تھی بلکہ پہلی مرتبہ امام خمینی نے اپنے سیاسی خیالات کا اظہار بھی کیا۔ written by Ali Akbar Hakamizadeh
امام خمینی ایک عظیم رہنما، ایک منفرد مفکر اور ایک غیر معمولی روحانی شخصیت تھے۔ ان کی کتاب "کشف الاسرار" ایک اہم کام ہے جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو صوفیانہ اور عرفانی نقطہ نظر سے وطن کی آزادی اور اسلامی انقلاب کی ضرورت کے بارے میں سمجھایا۔ امام خمینی کی تحریک نے دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی اور اسلامی دنیا میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا۔ ان کی خدمات اور یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب صرف علمی مباحثہ نہیں، بلکہ ایک جذبے کا اظہار ہے، جذبہء "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کا۔ انہوں نے ہر اس اعتراض کا جواب دیا جو اسلام اور شریعت کے خلاف کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ منطقی ہو یا تاریخی۔
کشف الاسرار امام خمینی (Kashf Ul Asrar Imam Khomeini): اردو میں ایک جامع جائزہ